میر تقی میر میر تقی میر

ٹک پاس آ کے کیسے صرفے سے ہیں کشیدہ

ٹک پاس آ کے کیسے صرفے سے ہیں کشیدہ گویا کہ ہیں یہ لڑکے پیر زمانہ دیدہ اب خاک تو ہماری سب سبز ہو چلی ہے کب منھ ادھر کرے گا وہ آہوے رمیدہ یوسف سے کوئی کیونکر اس ماہ کو ملاوے ہے فرق رات دن کا از دیدہ تا شنیدہ بندے کے درد دل کو کوئی نہیں پہنچتا ہر ایک بے حقیقت یاں ہے خدا رسیدہ کیا وسوسہ ہے مجھ کو عزت سے جینے کا یاں نکلا نہ میرے دل سے یہ خار ناخلیدہ ہم کاڑھ کر جگر بھی آگے تمھارے رکھا پھر یا نصیب اس پر تم جو ہوئے کبیدہ سائے سے اپنے وحشت ہم کو رہی ہمیشہ جوں آفتاب ہم بھی کیسے رہے جریدہ منصور کی نظر تھی جو دار کی طرف سو پھل وہ درخت لایا آخر سر بریدہ ذوق سخن ہوا ہے اب تو بہت ہمیں بھی لکھ لیں گے میر جی کے کچھ شعر چیدہ چیدہ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR