میر تقی میر میر تقی میر

کیا چہرے خدا نے دیے ان خوش پسروں کو

کیا چہرے خدا نے دیے ان خوش پسروں کو دینا تھا تنک رحم بھی بیدادگروں کو آنکھوں سے ہوئی خانہ خرابی دل اے کاش کر لیتے تبھی بند ہم ان دونوں دروں کو پرواز گلستاں کے تو شائستہ نہ نکلے پروانہ نمط آگ ہم اب دیں گے پروں کو سب طائر قدسی ہیں یہ جو زیر فلک ہیں موندا ہے کہاں عشق نے ان جانوروں کو زنہار ترے دل کی توجہ نہ ہو ایدھر آگے ترے ہم کاڑھ رکھیں گر جگروں کو پیراہن صدچاک سلاتے ہیں مرا لوگ تہ سے نہیں مطلق خبر ان بے خبروں کو جوں اشک جہاں جاتے رہیں گے تو گئے پھر دیکھا کرو ٹک آن کے ہم دیدہ تروں کو اس باغ کے ہر گل سے چپک جاتی ہیں آنکھیں مشکل بنی ہے آن کے صاحب نظروں کو آداب جنوں چاہیے ہم سے کوئی سیکھے دیکھا ہے بہت یاروں نے آشفتہ سروں کو اندیشہ کی جاگہ ہے بہت میرجی مرنا درپیش عجب راہ ہے ہم نوسفروں کو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR