میر تقی میر میر تقی میر

خدا کرے کہ بتوں سے نہ آشنائی ہو

خدا کرے کہ بتوں سے نہ آشنائی ہو کہ پھر موئے ہی بنے ہے اگر جدائی ہو بدن نما ہے ہر آئینہ لوح تربت کا نظر جسے ہو اسے خاک خودنمائی ہو بدی نوشتے کی تحریر کیا کروں اپنے کہ نامہ پہنچے تو پھر کاغذ ہوائی ہو فرو نہ آوے سر اس کا طواف کعبہ سے نصیب جس کے ترے در کی جبہہ سائی ہو ہماری چاہ نہ یوسفؑ ہی پر ہے کچھ موقوف نہیں ہے وہ تو کوئی اور اس کا بھائی ہو گلی میں اس کی رہا جا کے جو کوئی سو رہا وہی تو جاوے ہے واں جس کسو کی آئی ہو لب سوال نہ اک بوسے کے لیے کھولوں ہزار مہر و محبت میں بے نوائی ہو زمانہ یار نہیں اپنے بخت سے اتنا کہ مدعی سے اسے ایک دن لڑائی ہو جفا و جور و ستم اس کے آپ ہی سہیے جو اپنے حوصلہ میں کچھ بھی اب سمائی ہو ہزار موسم گل تو گئے اسیری میں دکھائی دے ہے موئے ہی پہ اب رہائی ہو چمکتے دانتوں سے اس کے ہوئی ہے روکش میر عجب نہیں ہے کہ بجلی کی جگ ہنسائی ہو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR