میر تقی میر میر تقی میر

رکھیے گردن کو تری تیغ ستم پر ہو سو ہو

رکھیے گردن کو تری تیغ ستم پر ہو سو ہو جی میں ہم نے یہ کیا ہے اب مقرر ہو سو ہو قطرہ قطرہ اشک باری تو کجا پیش سحاب ایک دن تو ٹوٹ پڑ اے دیدئہ تر ہو سو ہو بند میں ناز و نعم ہی کے رہے کیونکر فقیر یہ فضولی ہے فقیری میں میسر ہو سو ہو آ کے کوچے سے ترے جاتا ہوں کب جوں ابرشب تیر باراں ہو کہ برسے تیغ یک سر ہو سو ہو صاحبی کیسی جو تم کو بھی کوئی تم سا ملا پھر تو خواری بے وقاری بندہ پرور ہو سو ہو کب تلک فریاد کرتے یوں پھریں اب قصد ہے داد لیجے اپنی اس ظالم سے اڑ کر ہو سو ہو بال تیرے سر کے آگے تو جیوں کے ہیں وبال سر منڈاکر ہم بھی ہوتے ہیں قلندر ہو سو ہو سختیاں دیکھیں تو ہم سے چند کھنچواتا ہے عشق دل کو ہم نے بھی کیا ہے اب تو پتھر ہو سو ہو کہتے ہیں ٹھہرا ہے تیرا اور غیروں کا بگاڑ ہیں شریک اے میر ہم بھی تیرے بہتر ہو سو ہو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR