میر تقی میر میر تقی میر

نہ میرے باعث شور و فغاں ہو

نہ میرے باعث شور و فغاں ہو ابھی کیا جانیے یاں کیا سماں ہو یہی مشہور عالم ہیں دوعالم خدا جانے ملاپ اس سے کہاں ہو جہاں سجدے میں ہم نے غش کیا تھا وہیں شاید کہ اس کا آستاں ہو نہ ہووے وصف ان بالوں کا مجھ سے اگر ہر مو مرے تن پر زباں ہو جگر تو چھن گیا تیروں کے مارے تمھاری کس طرح خاطر نشاں ہو نہ دل سے جا خدا کی تجھ کو سوگند خدائی میں اگر ایسا مکاں ہو تم اے نازک تناں ہو وہ کہ سب کے تمناے دل و آرام جاں ہو ہلے ٹک لب کہ اس نے مار ڈالا کہے کچھ کوئی گر جی کی اماں ہو سنا ہے چاہ کا دعویٰ تمھارا کہو جو کچھ کہ چاہو مہرباں ہو کنارہ یوں کیا جاتا نہیں پھر اگر پاے محبت درمیاں ہو ہوئے ہم پیر سو ساکت ہیں اب میر تمھاری بات کیا ہے تم جواں ہو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR