میر تقی میر میر تقی میر

اب اسیری سے بچیں تو دیکھیں گے گلشن کبھو

اب اسیری سے بچیں تو دیکھیں گے گلشن کبھو تھا ہمارا بھی چمن میں اے صبا مسکن کبھو ہم بھی ایک امید پر اس صید گہ میں ہیں پڑے کہتے ہیں آتا ہے ایدھر وہ شکار افگن کبھو بند پایا جیب میں یا سر سے مارا تنگ ہو دست کوتہ میں نہ آیا اپنے وہ دامن کبھو یار کی برگشتہ مژگاں سے نہ دل کو جمع رکھ بد بلا ہے پھر کھڑی ہووے جو یہ پلٹن کبھو جان کوئی کیوں نہ دو اس بے مروت کے لیے آشنا ہوتا نہیں وہ دوستی دشمن کبھو ہوں تو نالاں زیر دیوار چمن پر ضعف سے گوش زد گل کے نہیں ہوتا مرا شیون کبھو دل مگر ان جامہ زیبوں کو دیا ہے میر نے اس طرح پھرتے نہ تھے وے چاک پیراہن کبھو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR