میر تقی میر میر تقی میر

معلوم نہیں کیا ہے لب سرخ بتاں میں

معلوم نہیں کیا ہے لب سرخ بتاں میں اس آتش خاموش کا ہے شور جہاں میں یوسفؑ کے تئیں دیکھ نہ کیوں بند ہوں بازار یہ جنس نکلتی نہیں ہر اک کی دکاں میں یک پرچۂ اشعار سے منھ باندھے سبھوں کے جادو تھا مرے خامے کی گویا کہ زباں میں یہ دل جو شکستہ ہے سو بے لطف نہیں ہے ٹھہرو کوئی دم آن کے اس ٹوٹے مکاں میں میں لگ کے گلے خوب ہی رویا لب جو پر ملتی تھی طرح اس کی بہت سرو رواں میں کیا قہر ہوا دل جو دیا لڑکوں کو میں نے چرچا ہے یہی شہر کے اب پیر و جواں میں وے یاسمن تازہ شگفتہ میں کہاں میر پائے گئے لطف اس کے جو پائوں کے نشاں میں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR