میر تقی میر میر تقی میر

کیا کہیں پایا نہیں جاتا ہے کچھ تم کیا ہو میاں

کیا کہیں پایا نہیں جاتا ہے کچھ تم کیا ہو میاں کھو گئے دنیا سے تم ہو اور اب دنیا ہو میاں مت حنائی پائوں سے چل کر کہیں جایا کرو دلی ہے آخر نہ ہنگامہ کہیں برپا ہو میاں دل جہاں کھویا گیا کھویا گیا پھر دیکھیے کون مرتا ہے جیے ہے کون ناپیدا ہو میاں دل کو لے کر صاف یوں آنکھیں ملاتا ہے کوئی تب تلک ہی لطف ہے جب تک کہ کچھ پردہ ہو میاں ایک جنبش میں ترے ابرو کی ٹل جاتی ہے بھیڑ درمیاں آوے اگر تلوار تو پرچھا ہو میاں برسوں تک چھایا رہا ہے چشم تر پر ابر سا پاٹ دامن کا نچوڑوں کوئی تو دریا ہو میاں شہر میں تو موسم گل میں نہیں لگتا ہے جی یا گریباں کوہ کا یا دامن صحرا ہو میاں مدعی عشق تو ہیں عزلتی شہر لیک جب گلی کوچوں میں کوئی اس طرح رسوا ہو میاں گفتگو اتنی پریشاں حال کی یہ درہمی میر کچھ دل تنگ ہے ایسا نہ ہو سودا ہو میاں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR