میر تقی میر میر تقی میر

اتفاق ایسا ہے کڑھتے ہی سدا رہتے ہیں

اتفاق ایسا ہے کڑھتے ہی سدا رہتے ہیں ایک عالم میں ہیں ہم وے پہ جدا رہتے ہیں برسے تلوار کہ حائل ہو کوئی سیل بلا پیش کچھ آئو ہم اس کوچے میں جا رہتے ہیں کام آتا ہے میسر کسے ان ہونٹوں سے بابت بوسہ ہیں پر سب کو چما رہتے ہیں دشت میں گرد رہ اس کی اٹھے ہے جیدھر سے وحش و طیر آنکھیں ادھر ہی کو لگا رہتے ہیں کیا تری گرمی بازار کہیں خوبی کی سینکڑوں آن کے یوسف سے بکا رہتے ہیں بسترا خاک رہ اس کی تو ہے اپنا لیکن گریۂ خونیں سے لوہو میں نہا رہتے ہیں کیوں اڑاتے ہو بلایا ہمیں کب کب ہم آپ جیسے گردان کبوتر یہیں آ رہتے ہیں حق تلف کن ہیں بتاں یاد دلائوں کب تک ہر سحر صحبت دوشیں کو بھلا رہتے ہیں یاد میں اس کے قد و قامت دلکش کی میر اپنے سر ایک قیامت نئی لا رہتے ہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR