میر تقی میر میر تقی میر

یوں قیدیوں سے کب تئیں ہم تنگ تر رہیں

یوں قیدیوں سے کب تئیں ہم تنگ تر رہیں جی چاہتا ہے جا کے کسو اور مر رہیں اے کاش ہم کو سکر کی حالت رہے مدام تا حال کی خرابی سے ہم بے خبر رہیں رہتے ہیں یوں حواس پریشاں کہ جوں کہیں دو تین آ کے لوٹے مسافر اتر رہیں وعدہ تو تب ہو صبح کا جب ہم بھی جاں بلب جیسے چراغ آخر شب تا سحر رہیں آوارگی کی سب ہیں یہ خانہ خرابیاں لوگ آویں دیکھنے کو بہت ہم جو گھر رہیں ہم نے بھی نذر کی ہے کہ پھریے چمن کے گرد یارب قفس کے چھوٹنے تک بال و پر رہیں ان دلبروں کی آنکھ نہیں جاے اعتماد جب تک رہیں یہ چاہیے پیش نظر رہیں فردا کی فکر آج نہیں مقتضاے عقل کل کی بھی دیکھ لیویں گے کل ہم اگر رہیں تیغ و تبر رکھا نہ کرو پاس میر کے ایسا نہ ہو کہ آپ کو ضائع وے کر رہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR