میر تقی میر میر تقی میر

گر کوئی اعمیٰ کہے کچھ پر کہاں وہ تو کہاں

گر کوئی اعمیٰ کہے کچھ پر کہاں وہ تو کہاں لے گئے پیش فلک اس مہ کا ایسا رُو کہاں گل کو کیا نسبت ہے تجھ سے میں نہ مانوں زینہار رنگ اگر بالفرض تیرا سا ہوا یہ بو کہاں عشق لاتا ہے بروے کار مجنوں سا کبھو بید بہتیرے کھڑے ہیں وے پریشاں مو کہاں دیکھیاں کجیاں کمانوں کی بھی خم محراب کے پر دلوں کو کھینچتے ہیں جیسے وے ابرو کہاں سنبل آپھی آپ پیچ و تاب یوں کھایا کرے یار کی سی زلف کے وے حلقہ حلقہ مو کہاں آگے یہ آنکھیں گلے کی ہار ہی رہتی تھیں روز اب جگر میں خوں نہیں وے سہرے سے آنسو کہاں میر سچ کہتا تھا جنت ہو نصیب اس کے تئیں حور کا چہرہ کہاں اس کا رخ نیکو کہاں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR