میر تقی میر میر تقی میر

کیا کہوں اول بخود تو دیر میں آتا ہوں میں

کیا کہوں اول بخود تو دیر میں آتا ہوں میں پھر جو یاد آتا ہے وہ چپکا سا رہ جاتا ہوں میں داغ ہوں کیونکر نہ میں درویش یارو جب نہ تب بوریا پوشوں ہی میں وہ شعلہ خو پاتا ہوں میں ہجر میں اس طفل بازی کوش کے رہتا ہوں جب جا کے لڑکوں میں ٹک اپنے دل کو بہلاتا ہوں میں ہوں گرسنہ چشم میں دیدار خوباں کا بہت دیکھنے پر ان کے تلواریں کھڑا کھاتا ہوں میں آب سب ہوتا ہوں پاکر آپ کو جیسے حباب یعنی اس ننگ عدم ہستی سے شرماتا ہوں میں ایک جاگہ کب ٹھہرنے دے ہے مجھ کو روزگار کیوں تم اکتاتے ہو اتنا آج کل جاتا ہوں میں ہے کمال عشق پر بے طاقتی دل کی دلیل جلوئہ دیدار کی اب تاب کب لاتا ہوں میں آسماں معلوم ہوتا ہے ورے کچھ آگیا دور اس سے آہ کیسا کیسا گھبراتا ہوں میں بس چلے تو راہ اودھر کی نہ جائوں لیک میر دل مرا رہتا نہیں ہر چند سمجھاتا ہوں میں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR