میر تقی میر میر تقی میر

کب تک رہیں گے پہلو لگائے زمیں سے ہم

کب تک رہیں گے پہلو لگائے زمیں سے ہم یہ درد اب کہیں گے کسو شانہ بیں سے ہم تلواریں کتنی کھائی ہیں سجدے میں اس طرح فریادی ہوں گے مل کے لہو کو جبیں سے ہم فتراک تک یہ سر جو نہ پہنچا تو یا نصیب مدت لگے رہے ترے دامان زیں سے ہم ہوتا ہے شوق وصل کا انکار سے زیاد کب تجھ سے دل اٹھاتے ہیں تیری نہیں سے ہم چھاجے جو پیش دستی کرے نور ماہ پر دیکھی عجب سفیدی تری آستیں سے ہم یہ شوق صید ہونے کا دیکھو کہ آپ کو دکھلایا صیدگہ میں یسار و یمیں سے ہم تکلیف درد دل کی نہ کر تنگ ہوں گے لوگ یہ بات روز کہتے رہے ہم نشیں سے ہم اڑتی ہے خاک شہر کی گلیوں میں اب جہاں سونا لیا ہے گودوں میں بھر کر وہیں سے ہم آوارہ گردی اپنی کھنچی میر طول کو اب چاہیں گے دعا کسو عزلت نشیں سے ہم

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR