میر تقی میر میر تقی میر

محرم سے کسو روبرو ہوں کاشکے اب ہم

محرم سے کسو روبرو ہوں کاشکے اب ہم بے وجہ غضب رہنے کا پوچھیں جو سبب ہم تدبیریں کریں اپنے تن زار و زبوں کی افراط سے اندوہ کی ہوں آپ میں جب ہم تو لاگو نہ ہو جی کا تو ناچار ہیں ورنہ اس جنس گراں مایہ سے گذرے نہیں کب ہم یک سلسلہ ہے قیس کا فرہاد کا اپنا جوں حلقۂ زنجیر گرفتار ہیں سب ہم کس دن نہ ملا غیر سے تو گرم علی الرغم رہتے ہیں یوں ہی لوٹتے انگاروں پہ شب ہم مجمع میں قیامت کے اک آشوب سا ہو گا آنکلے اگر عرصے میں یوں نالہ بلب ہم کیا معرفت اس سے ہوئی یاروں کو نہ سمجھے اب تک تو نہیں پاتے ہیں کچھ یار کے ڈھب ہم گہ نوچ لیا منھ کو گہے کوٹ لی چھاتی دل تنگی ہجراں سے ہیں مغلوب غضب ہم آغاز محبت میں تمامی ہوئی اپنی اے واے ہوئے خاک بسر راہ طلب ہم تربت سے ہماری نہ اٹھی گرد بھی اے میر جی سے گئے لیکن نہ کیا ترک ادب ہم

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR