میر تقی میر میر تقی میر

ہے آگ کا سا نالۂ کاہش فزا کا رنگ

ہے آگ کا سا نالۂ کاہش فزا کا رنگ کچھ اور صبح دم سے ہوا ہے ہوا کا رنگ دیکھے ادھر تو مجھ سے نہ یوں آنکھ وہ چھپائے ظاہر ہے میرے منھ سے مرے مدعا کا رنگ کس بے گنہ کے خوں میں ترا پڑ گیا ہے پائوں ہوتا نہیں ہے سرخ تو ایسا حنا کا رنگ بے گہ شکستہ رنگی خورشید کیا عجب ہوتا ہے زرد بیشتر اہل فنا کا رنگ گل پیرہن نہ چاک کریں کیونکے رشک سے کس مرتبے میں شوخ ہے اس کی قبا کا رنگ رہتا تھا ابتداے محبت میں منھ سفید اب زرد سب ہوا ہوں یہ ہے انتہا کا رنگ داروے لعل گوں نہ پیو میرزا ہو تم گرمی پہ ہے دلیل بہت اس دوا کا رنگ خوبی ہے اس کی حیّزِ تحریر سے بروں کیا اس کا طور حسن لکھوں کیا ادا کا رنگ پوچھیں ہیں وجہ گریۂ خونیں جو مجھ سے لوگ کیا دیکھتے نہیں ہیں سب اس بے وفا کا رنگ مقدور تک نہ گذرے مرے خوں سے یار میر غیروں سے کیا گلہ ہے یہ ہے آشنا کا رنگ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR