میر تقی میر میر تقی میر

چمکی ہے جب سے برق سحر گلستاں کی اور

چمکی ہے جب سے برق سحر گلستاں کی اور جی لگ رہا ہے خار و خس آشیاں کی اور وہ کیا یہ دل لگے ہے فنا میں کہ رفتگاں منھ کرکے بھی نہ سوئے کبھو پھر جہاں کی اور رنگ سخن تو دیکھ کہ حیرت سے باغ میں رہ جاتے ہیں گے دیکھ کے گل اس دہاں کی اور آنکھیں سی کھل ہی جائیں گی جو مر گیا کوئی دیکھا نہ کر غضب سے کسو خستہ جاں کی اور کیا بے خبر ہے رفتن رنگین عمر سے جوے چمن میں دیکھ ٹک آب رواں کی اور یاں تاب سعی کس کو مگر جذب عشق کا لاوے اسی کو کھینچ کسو ناتواں کی اور یارب ہے کیا مزہ سخن تلخ یار میں رہتے ہیں کان سب کے اسی بد زباں کی اور یا دل وہ دیدنی تھی جگہ یا کہ تجھ بغیر اب دیکھتا نہیں ہے کوئی اس مکاں کی اور آیا کسے تکدر خاطر ہے زیرخاک جاتا ہے اکثر اب تو غبار آسماں کی اور کیا حال ہو گیا ہے ترے غم میں میر کا دیکھا گیا نہ ہم سے تو ٹک اس جواں کی اور

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR