میر تقی میر میر تقی میر

آئی ہے اس کے کوچے سے ہوکر صبا کچھ اور

آئی ہے اس کے کوچے سے ہوکر صبا کچھ اور کیا سر میں خاک ڈالتی ہے اب ہوا کچھ اور تدبیر دوستوں کی مجھے نفع کیا کرے بیماری اور کچھ ہے کریں ہیں دوا کچھ اور مستان عشق و اہل خرابات میں ہے فرق مے خوارگی کچھ اور ہے یہ نشہ تھا کچھ اور کیا نسبت اس کی قامت دلکش سے سرو کو انداز اس کا اور کچھ اس کی ادا کچھ اور مانجا جو آرسی نے بہت آپ کو تو کیا رخسار کے ہے سطح کی اس کے صفا کچھ اور اس کی زیادہ گوئی سے دل داغ ہو گیا شکوہ کیا جب اس سے تب ان نے کہا کچھ اور اس طور سے تمھارے تو مرتے نہیں ہیں ہم اب واسطے ہمارے نکالو جفا کچھ اور صورت پرست ہوتے نہیں معنی آشنا ہے عشق سے بتوں کے مرا مدعا کچھ اور مرنے پہ جان دیتے ہیں وارفتگان عشق ہے میر راہ و رسم دیار وفا کچھ اور

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR