میر تقی میر میر تقی میر

آ ہم نشیں کسو کے مت عشق کی ہوس کر

آ ہم نشیں کسو کے مت عشق کی ہوس کر جاتی ہیں یوں ہی ناداں جانیں ترس ترس کر فرصت سے اس چمن کی کل روکے میں جو پوچھا چشمک کی ایک گل نے میری طرف کو ہنس کر ہم موسے ناتواں تھے سو ہوچکے ہیں کب کے نکلے ہو تم پیارے کس پر کمر کو کس کر جی رک گیا کہیں تو پھر ہوئے گا اندھیرا مت چھیڑ ابر مجھ کو یوں ہی برس برس کر کیا ایک تنگ میں ہوں اس زلف پرشکن سے اس دام میں موئے ہیں بہتیرے صید پھنس کر اک جمع کے سر اوپر روز سیاہ لایا پگڑی میں بال اپنے نکلا جو وہ گھڑس کر اس قافلے میں کوئی دل آشنا نہیں ہے ٹکڑے گلے کے اپنے ناحق نہ اے جرس کر صیاد اگر اجازت گلگشت کی نہیں ٹک دیوار باغ کو تو بارے درقفس کر بے بس ہے میر تجھ بن رہتا نہیں دل اس کا ٹک تو بھی اے ستم جو جور و ستم کو بس کر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR