میر تقی میر میر تقی میر

کیا کیا نہ لوگ کھیلتے جاتے ہیں جان پر

کیا کیا نہ لوگ کھیلتے جاتے ہیں جان پر اطفال شہر لائے ہیں آفت جہان پر کچھ ان دنوں اشارئہ ابرو ہیں تیزتیز کیا تم نے پھر رکھی ہے یہ تلوار سان پر تھوڑے میں دور کھینچے ہے کیا آدم آپ کو اس مشت خاک کا ہے دماغ آسمان پر کس پر تھے بے دماغ کہ ابرو بہت ہے خم کچھ زور سا پڑا ہے کہیں اس کمان پر کس رنگ راہ پاے نگاریں سے تو چلا ہونے لگے ہیں خون قدم کے نشان پر چرچا سا کر دیا ہے مرے شور عشق نے مذکور اب بھی ہے یہ ہر اک کی زبان پر پی پی کے اپنا لوہو رہیں گوکہ ہم ضعیف جوں رینگتی نہیں ہے انھوں کے تو کان پر یہ وہم ہے کہ اور کا ہے میرے تیں خیال تو مار ڈالیو نہ مجھے اس گمان پر کیفیتیں ہزار ہیں اس کام جاں کے بیچ دیتے ہیں لوگ جان تو ایک ایک آن پر دامن میں آج میر کے داغ شراب ہے تھا اعتماد ہم کو بہت اس جوان پر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR