میر تقی میر میر تقی میر

آغشتہ خون دل سے سخن تھے زبان پر

آغشتہ خون دل سے سخن تھے زبان پر رکھے نہ تم نے کان ٹک اس داستان پر کچھ ہورہے گا عشق و ہوس میں بھی امتیاز آیا ہے اب مزاج ترا امتحان پر یہ دلبری کے فن و فریب اتنی عمر میں جھنجھلاہٹ اب تو آوے ہے اس کے سیان پر محتاج کر خدا نہ نکالے کہ جوں ہلال تشہیر کون شہر میں ہو پارہ نان پر دیکھا نہ ہم نے چھوٹ میں یاقوت کی کبھو تھا جو سماں لبوں کے ترے رنگ پان پر کیا رہروان راہ محبت ہیں طرفہ لوگ اغماض کرتے جاتے ہیں جی کے زیان پر پہنچا نہ اس کی داد کو مجلس میں کوئی رات مارا بہت پتنگ نے سر شمع دان پر یہ چشم شوق طرفہ جگہ ہے دکھائو کی ٹھہرو بقدر یک مژہ تم اس مکان پر بزاز کے کو دیکھ کے خرقے بہت پھٹے بیٹھا وہ اس قماش سے آکر دکان پر موزوں کرو کچھ اور بھی شاید کہ میر جی رہ جائے کوئی بات کسو کی زبان پر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR