میر تقی میر میر تقی میر

کیا کیا نہ ہم نے کھینچے آزار تیری خاطر

کیا کیا نہ ہم نے کھینچے آزار تیری خاطر اب ہو گئے ہیں آخر بیمار تیری خاطر غیروں کی بے دماغی بیتابی چھاتی داغی یہ سب ستم اٹھائے اے یار تیری خاطر کیا جانیے کہ ہے تو کیا جنس بیش قیمت جاتے ہیں پگڑی جامے بازار تیری خاطر اک بار تونے آکر خاطر نہ رکھی میری میں جی سے اپنے گذرا سو بار تیری خاطر میں کیا کہ آہ کافر دیں کے اکابروں نے قشقے لگائے پہنے زنار تیری خاطر گو دل دھسک ہی جاوے آنکھیں ابل ہی آویں سب اونچ نیچ کی ہے ہموار تیری خاطر ایک آن تیرے ابرو ایدھر جھکے نہ پائے سو سو میں میں نے کھینچی تلوار تیری خاطر کیا چیز ہے تو پیارے مفلس ہیں داغ تیرے پیسے لیے پھرے ہیں زردار تیری خاطر تجھ سے دوچار ہونا پھر آہ بن نہ آیا دی جان میر جی نے ناچار تیری خاطر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR