میر تقی میر میر تقی میر

اگرچہ لعل بدخشاں میں رنگ ڈھنگ ہے شوخ

اگرچہ لعل بدخشاں میں رنگ ڈھنگ ہے شوخ پہ تیرے دونوں لبوں کا بھی کیا ہی رنگ ہے شوخ کبھو تو نیو چلاکر ستم کھنچیں کب تک کماں کے طور سے تو سخت خانہ جنگ ہے شوخ سکھائیں کن نے تجھے آہ ایسی اچپلیاں کہ برق پر تری شوخی سے کام تنگ ہے شوخ بغیر بادہ تو یوں گرم آ کے کب ملتا نشہ ہے زور تجھے اس کی یہ ترنگ ہے شوخ جگر میں کس کے ترے ہاتھ سے نہیں سوراخ ملک تلک تو ترا زخمی خدنگ ہے شوخ صنم فراق میں میں تیرے کچھ تو کر رہتا پہ کیا کروں کہ مرا ہاتھ زیرسنگ ہے شوخ خیال چاہ کے سررشتے کا تجھے کب ہے ترے تو ہاتھ میں شام و سحر پتنگ ہے شوخ ابھی تو آنے میں عرصہ ہے کچھ قیامت کے قد بلند کو کھینچ اپنے کیا درنگ ہے شوخ برآر میر سے کس طرح تیری صحبت ہو تجھے تو نام سے اس خستہ جاں کے ننگ ہے شوخ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR