میر تقی میر میر تقی میر

ہوتی ہے گرچہ کہنے سے یارو پرائی بات

ہوتی ہے گرچہ کہنے سے یارو پرائی بات پر ہم سے تو تھمے نہ کبھو منھ پر آئی بات جانے نہ تجھ کو جو یہ تصنع تو اس سے کر تس پر بھی تو چھپی نہیں رہتی بنائی بات لگ کر تدرو رہ گئے دیوار باغ سے رفتار کی جو تیری صبا نے چلائی بات کہتے تھے اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے لیک وہ آگیا تو سامنے اس کے نہ آئی بات اب تو ہوئے ہیں ہم بھی ترے ڈھب سے آشنا واں تونے کچھ کہا کہ ادھر ہم نے پائی بات بلبل کے بولنے میں سب انداز ہیں مرے پوشیدہ کب رہے ہے کسو کی اڑائی بات بھڑکا تھا رات دیکھ کے وہ شعلہ خو مجھے کچھ رو سیہ رقیب نے شاید لگائی بات عالم سیاہ خانہ ہے کس کا کہ روز و شب یہ شور ہے کہ دیتی نہیں کچھ سنائی بات اک دن کہا تھا یہ کہ خموشی میں ہے وقار سو مجھ سے ہی سخن نہیں میں جو بتائی بات اب مجھ ضعیف و زار کو مت کچھ کہا کرو جاتی نہیں ہے مجھ سے کسو کی اٹھائی بات خط لکھتے لکھتے میر نے دفتر کیے رواں افراط اشتیاق نے آخر بڑھائی بات

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR