میر تقی میر میر تقی میر

سنتا نہیں اگرچہ ہمارا نگار بات

سنتا نہیں اگرچہ ہمارا نگار بات پر منھ پہ آ ہی جاتی ہے بے اختیار بات بلبل کے بولنے سے ہے کیوں بے دماغ گل آپس میں یوں تو ہوتی ہے یارو ہزار بات منھ تک رہو جو ہو وہ فریبندہ حرف زن اس تھوڑے سن و سال میں یہ پیچدار بات بوسہ دے چپکے لب کا کہ تب کچھ مزہ نہیں پاوے گی سارے شہر میں جب اشتہار بات ہے کس کی صوت انکر اصوات واعظا کب آدمی کی جنس کرے ہے پکار بات آہو کو اس کی چشم سخن گو سے مت ملا شہری سے کرسکے ہے کہیں بھی گنوار بات یوں بار گل سے اب کے جھکے ہیں نہال باغ جھک جھک کے جیسے کرتے ہیں دوچار یار بات آزردہ دل کو حرف پہ لانے کا لطف کیا کرتی ہے خونچکاں مرے لب سے گذار بات مرجاں کوئی کہے ہے کوئی ان لبوں کو لعل کچھ رفتہ رفتہ پا ہی رہے گی قرار بات یوں چپکے چپکے میر تلف ہو گا کب تلک کچھ ہووے بھڑ کر اس سے بھی کر ایک بار بات

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR