میر تقی میر میر تقی میر

برقع میں کیا چھپیں وے ہوویں جنھوں کی یہ تاب

برقع میں کیا چھپیں وے ہوویں جنھوں کی یہ تاب رخسار تیرے پیارے ہیں آفتاب مہتاب اٹکل ہمیں کو ان نے آخر ہدف بنایا ہرچند ہم بلاکش تھے ایک تیر پرتاب کچھ قدر میں نہ جانی غفلت سے رفتگاں کی آنکھیں سی کھل گئیں اب جب صحبتیں ہوئیں خواب ان بن ہی کے سبب ہیں اس لالچی سے سارے یاں ہے فقیری محض واں چاہیے ہے اسباب اس بحر حسن کے تیں دیکھا ہے آپ میں کیا جاتا ہے صدقے اپنے جو لحظہ لحظہ گرداب اچرج ہے یہ کہ مطلق کوئی نہیں ہے خواہاں جنس وفا اگرچہ ہے گی بہت ہی کمیاب تھی چشم یہ رکے گا پلکوں سے گریہ لیکن ہوتی ہے بند کوئی تنکوں سے راہ سیلاب تو بھی تو مختلط ہو سبزے میں ہم سے ساقی لے کر بغل میں ظالم میناے بادئہ ناب نکلی ہیں اب کے کلیاں اس رنگ سے چمن میں سر جوڑ جوڑ جیسے مل بیٹھتے ہیں احباب کیا لعل لب کسو کے اے میر چت چڑھے ہیں چہرے پہ تیرے ہر دم بہتا رہے ہے خوناب

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR