میر تقی میر میر تقی میر

جیسا مزاج آگے تھا میرا سو کب ہے اب

جیسا مزاج آگے تھا میرا سو کب ہے اب ہر روز دل کو سوز ہے ہر شب تعب ہے اب سدھ کچھ سنبھالتے ہی وہ مغرور ہو گیا ہر آن بے دماغی و ہر دم غضب ہے اب دوری سے اس کی آہ عجب حال میں ہیں لوگ کچھ بھی جو پاس وہ نہ کرے تو عجب ہے اب طاقت کہ جس سے تاب جفا تھی سو ہوچکی تھوڑی سی کوفت میں بھی بہت سا تعب ہے اب دریا چلا ہے آج تو بوس و کنار کا گر جی چلاوے کوئی دوانہ تو ڈھب ہے اب جاں بخشیاں جو پیشتر از خط کیا کیے ان ہی لبوں سے خلق خدا جاں بلب ہے اب رنجش کی وجہ آگے تو ہوتی بھی تھی کوئی روپوش ہم سے یار جو ہے بے سبب ہے اب نے چاہ وہ اسے ہے نہ مجھ کو ہے وہ دماغ جانا مرا ادھر کو بشرط طلب ہے اب جاتا ہوں دن کو ملنے تو کہتا ہے دن ہے میر جو شب کو جایئے تو کہے ہے کہ شب ہے اب

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR