میر تقی میر میر تقی میر

شبنم سے کچھ نہیں ہے گل و یاسمن میں آب

شبنم سے کچھ نہیں ہے گل و یاسمن میں آب دیکھ اس کو بھر بھر آوے ہے سب کے دہن میں آب لو سدھ شتاب فاختۂ گریہ ناک کی آیا نہیں ہے دیر سے جوے چمن میں آب سوزش بہت ہو دل میں تو آنسو کو پی نہ جا کرتا ہے کام آگ کا ایسی جلن میں آب تھا گوش زد کہ گوروں میں لگ لگ اٹھے ہے آگ یاں دل بھرے ہوئے کے سبب ہے کفن میں آب جی ڈوب جائے دیکھیں جہاں بھر نظر ادھر تم کہتے ہو نہیں مرے چاہ ذقن میں آب لب تشنگان عشق کے ہیں کام کے وہ لعل کیا آپ کو جو ہووے عقیق یمن میں آب تب قیس جنگلوں کے تئیں آگ دے گیا ہم بھر چلے ہیں رونے سے اب سارے بن میں آب سن سوز دل کو میرے بہت روئی رات شمع بیرون بزم لائے ہیں بھر بھر لگن میں آب دیکھو تو کس روانی سے کہتے ہیں شعر میر در سے ہزار چند ہے ان کے سخن میں آب

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR