میر تقی میر میر تقی میر

یہ چوٹ کھائی ایسی دل پر کہ جی گنوایا

یہ چوٹ کھائی ایسی دل پر کہ جی گنوایا یعنی جدائی کا ہم صدمہ بڑا اٹھایا مدت میں وہ ہوا شب ہم بستر آ کے میرا خوابیدہ طالعوں نے اک خواب سا دکھایا الجھائو پڑ گیا سو سلجھی نہ اپنی اس کی جھگڑے رہے بہت سے گذرے بہت قضایا آئینہ رو ہمارا آیا نہ نزع میں بھی وقت اخیر ان نے کیا خوب منھ چھپایا اس بے مروتی کو کیا کہتے ہیں بتائو ہم مارے بھی گئے پر وہ نعش پر نہ آیا وہ روے خوب اب کے ہرگز گیا نہ دل سے جب گل کھلا چمن میں تب داغ ہم نے کھایا خلطہ ہمارا اس کا حیرت ہی کی جگہ ہے ڈھونڈا جہاں ہم اس کو واں آپ کو ہی پایا طرز نگہ سے اس کی بے ہوش کیا ہوں میں ہی ان مست انکھڑیوں نے بہتیروں کو سلایا آنکھیں کھلیں تو دیکھا جو کچھ نہ دیکھنا تھا خواب عدم سے ہم کو کاہے کے تیں جگایا باقی نہیں رہا کچھ گھٹتے ہی گھٹتے ہم میں بیماری دلی نے چنگا بہت بنایا تونے کہ پائوں دل سے باہر نہیں رکھا ہے عیارپن یہ کن نے تیرے تئیں سکھایا کس دن ملائمت کی اس بت نے میر ہم سے سختی کھنچے نہ کیونکر پتھر سے دل لگایا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR