میر تقی میر میر تقی میر

منھ پر اس آفتاب کے ہے یہ نقاب کیا

منھ پر اس آفتاب کے ہے یہ نقاب کیا پردہ رہا ہے کون سا ہم سے حجاب کیا اے ابرتر یہ گریہ ہمارا ہے دیدنی برسے ہے آج صبح سے چشم پرآب کیا دم گنتے گنتے اپنی کوئی جان کیوں نہ دو وہ پاس آن بیٹھے کسو کے حساب کیا سو بار اس کے کوچے تلک جاتے ہیں چلے دل ہے اگر بجا تو یہ ہے اضطراب کیا بس اب نہ منھ کھلائو ہمارا ڈھکے رہو محشر کو ہم سوال کریں تو جواب کیا دوزخ سو عاشقوں کو تو دوزخ نہیں رہا اب واں گئے پہ ٹھہرے ہے دیکھیں عذاب کیا ہم جل کے ایک راکھ کی ڈھیری بھی ہو گئے ہے اب تکلف آگے جلے گا کباب کیا ہستی ہے اپنے طور پہ جوں بحر جوش میں گرداب کیسا موج کہاں ہے حباب کیا دیکھا پلک اٹھاکے تو پایا نہ کچھ اثر اے عمر برق جلوہ گئی تو شتاب کیا ہر چند میر بستی کے لوگوں سے ہے نفور پر ہائے آدمی ہے وہ خانہ خراب کیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR