میر تقی میر میر تقی میر

بے طاقتی میں تو تو اے میر مر رہے گا

بے طاقتی میں تو تو اے میر مر رہے گا ایسی طپش سے دل کی کوئی جگر رہے گا کیا ہے جو راہ دل کی طے کرتے مر گئے ہم جوں نقش پا ہمارا تا دیر اثر رہے گا مت کر لڑکپن اتنا خونریزی میں ہماری اس طور لوہو میں تو دامن کو بھر رہے گا آگاہ پائے ہم نے کھوئے گئے سے یعنی پہنچی خبر ادھر کی دل بے خبر رہے گا فردا کا سوچ تجھ کو کیا آج ہی پڑا ہے کل کی سمجھیو کل ہی کل تو اگر رہے گا لوگوں کا پاس ہم کو مارے رکھے ہے ورنہ ماتم میں دل کے شیون دو دوپہر رہے گا پایان کار دیکھیں کیا ہووے دل کی صورت ایسا ہی جو وہ چہرہ پیش نظر رہے گا اب رفتگی رویہ اپنا کیا ہے میں نے میرا یہ ڈھب دلوں میں کچھ راہ کر رہے گا ہم کوئی بیت جاکر اس ہی کے منھ سنیں گے وحشت زدہ کسو دن گر میر گھر رہے گا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR