میر تقی میر میر تقی میر

جس پہ اس موج سی شمشیر کا اک وار کیا

جس پہ اس موج سی شمشیر کا اک وار کیا کام اس شوق کے ڈوبے ہوئے کا پار کیا آگیا عشق میں جو پیش نشیب اور فراز ہوکے میں خاک برابر اسے ہموار کیا کیا کروں جنس وفا پھیرے لیے جاتا ہوں بخت بد نے نہ اسے دل کا خریدار کیا اتفاق ایسے پڑے ہم تو منافق ٹھہرے چرخ ناساز نے غیروں سے اسے یار کیا ایسے آزار اٹھانے کا ہمیں کب تھا دماغ کوفت نے دل کی تو جینے سے بھی بیزار کیا جی ہی جاتے سنے ہیں عشق کے مشہور ہوئے کیا کیا ہم نے کہ اس راز کو اظہار کیا دیکھے اس ماہ کو جو کتنے مہینے گذرے بڑھ گئی کاہش دل ایسی کہ بیمار کیا نالۂ بلبل بے دل ہے پریشان بہت موسم گل نے مگر رخت سفر بار کیا میر اے کاش زباں بند رکھا کرتے ہم صبح کے بولنے نے ہم کو گرفتار کیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR