میر تقی میر میر تقی میر

سنبل تمھارے گیسوئوں کے غم میں لٹ گیا

سنبل تمھارے گیسوئوں کے غم میں لٹ گیا ابرو کی تیغ دیکھ مہ عید کٹ گیا عالم میں جاں کے مجھ کو تنزہ تھا اب تو میں آلودگی جسم سے ماٹی میں اٹ گیا ظلم و جفا و جور پر اصرار اس قدر ہٹ دیکھ دیکھ تیری دل اپنا بھی ہٹ گیا اب وہ سماں نہیں ہے کہ وہ کام جان خلق مغموم ہم کو دیکھ کے دوڑا لپٹ گیا دشوار سیتے ہیں گے جو بے ڈھب پھٹے ہے جیب بے طوریوں سے اس کی دل اپنا تو پھٹ گیا دامان و جیب دونوں ہوئے ٹکڑے ایک جا اب کے یہ کام ہاتھ سے میرے سمٹ گیا خاطر اگر ہو جمع پریشانی بھی نبھے سو دل تو دو طرف تری زلفوں سے بٹ گیا ٹک رات اس کے منھ سے ہوا تھا مقابلہ پھر ماہ چاردہ کو جو دیکھا تو گھٹ گیا کیا پوچھو ہو نصیب ہمارے الٹ گئے چل کر ادھر کو یار پھر اودھر الٹ گیا بلبل کی اور گل کی جو صحبت کی سیر میر دل اپنا دلبروں کی طرف سے اچٹ گیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR