میر تقی میر میر تقی میر

بالقوہ ٹک دکھایئے چشم پرآب کا

بالقوہ ٹک دکھایئے چشم پرآب کا دامن پکڑ کے رویئے یک دم سحاب کا جو کچھ نظر پڑے ہے حقیقت میں کچھ نہیں عالم میں خوب دیکھو تو عالم ہے خواب کا دریا دلی جنھیں ہے نہیں ہوتے کاسہ لیس دیکھا ہے واژگوں ہی پیالہ حباب کا شاید کہ قلب یار بھی ٹک اس طرف پھرے میں منتظر زمانے کے ہوں انقلاب کا بارے نقاب دن کو جو رکھتا ہے منھ پہ تو پردہ سا رہ گیا ہے کچھ اک آفتاب کا تلوار بن نکلتے نہیں گھر سے ایک دم خوں کر رہو گے تم کسو خانہ خراب کا یہ ہوش دیکھ آگے مرے ساتھ غیر کے رکھتا ہے پائوں مست ہو جیسے شراب کا مجنوں میں اور مجھ میں کرے کیوں نہ فرق عشق چھپتا نہیں مزہ تو جلے سے کباب کا رو فرصت جوانی پہ جوں ابر بے خبر انداز برق کا سا ہے عہد شباب کا واں سے تو نامہ بر کو ہے کب کا جواب صاف میں سادگی سے لاگو ہوں خط کے جواب کا ٹپکاکرے ہے زہر ہی صرف اس نگاہ سے وہ چشم گھر ہے غصہ و ناز و عتاب کا لائق تھا ریجھنے ہی کے مصراع قد یار میں معتقد ہوں میر ترے انتخاب کا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR