Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

آنسو مری آنکھوں میں ہر دم جو نہ آجاتا

آنسو مری آنکھوں میں ہر دم جو نہ آجاتا تو کام مرا اچھا پردے میں چلا جاتا اصلح ہے حجاب اس کا ہم شوق کے ماروں سے بے پردہ جو وہ ہوتا تو کس سے رہا جاتا طفلی کی ادا تیری جاتی نہیں یہ جی سے ہم دیکھتے تجھ کو تو تو منھ کو چھپا جاتا صد شکر کہ داغ دل افسردہ ہوا ورنہ یہ شعلہ بھڑکتا تو گھر بار جلا جاتا کہتے تو ہو یوں کہتے یوں کہتے جو وہ آتا یہ کہنے کی باتیں ہیں کچھ بھی نہ کہا جاتا ان آنکھوں سے ہم چشمی برجاہے جو میں جل کر بادام کو کل یارو مجلس ہی میں کھا جاتا صحبت سگ و آہو کی یک عمر رہی باہم وہ بھاگتا مجھ سے تو میں اس سے لگا جاتا گر عشق نہیں ہے تو یہ کیا ہے بھلا مجھ کو جی خودبخود اے ہمدم کاہے کو کھپا جاتا جوں ابر نہ تھم سکتا آنکھوں کا مری جھمکا جوں برق اگر وہ بھی جھمکی سی دکھا جاتا تکلیف نہ کی ہم نے اس وحشی کو مرنے کی تھا میر تو ایسا بھی دل جی سے اٹھا جاتا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR