میر تقی میر میر تقی میر

سوز دروں سے آخر بھسمنت دل کو پایا

سوز دروں سے آخر بھسمنت دل کو پایا اس آگ نے بھڑک کر دربست گھر جلایا جی دے کے لیتے ایسے معشوق بے بدل کو یوسفؑ عزیز دلہا سستا بہت بکایا زلف سیاہ اس کی جاتی نہیں نظر سے اس چشم رو سیہ نے روز سیہ دکھایا نام اس کا سن کے آنسو گر ہی پڑے پلک سے دل کا لگائو یارو چھپتا نہیں چھپایا تھا لطف زیست جن سے وے اب نہیں میسر مدت ہوئی کہ ہم نے جینے سے ہاتھ اٹھایا مہندی لگی تھی تیرے پائوں میں کیا پیارے ہنگام خون عاشق سر پر جو تو نہ آیا یہ پیروی کسو سے کاہے کو ہوسکے ہے رکھتا ہے داغ ہم کو قامت کا اس کی سایا دیکھی نہ پیش جاتے ہرگز خردوری میں دانستہ بائولا ہم اپنے تئیں بنایا رہتی تھی بے دماغی اک شور ما و من میں آنکھوں کے مند گئے پر آرام سا تو پایا گل پھول سے بھی تو جو لیتا ہے منھ کو پھیرے مکھڑے سے کس کے تونے اے میر دل لگایا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR