میر تقی میر میر تقی میر

عشق کو بیچ میں یارب تو نہ لایا ہوتا

عشق کو بیچ میں یارب تو نہ لایا ہوتا یا تن آدمی میں دل نہ بنایا ہوتا دل نہ تھا ایسی جگہ جس کی نہ سدھ لیجے کبھو اجڑی اس بستی کو پھر تونے بسایا ہوتا عزت اسلام کی کچھ رکھ لی خدا نے ورنہ زلف نے تیری تو زنار بندھایا ہوتا گھر کے آگے سے ترے نعش گئی عاشق کی اپنے دروازے تلک تو بھی تو آیا ہوتا جو ہے سو بے خود رفتار ہے تیرا اے شوخ اس روش سے نہ قدم تونے اٹھایا ہوتا اب تو صد چند ستم کرنے لگے تم اے کاش عشق اپنا نہ تمھیں میں نے جتایا ہوتا دل سے خوش طرح مکاں پھر بھی کہیں بنتے ہیں اس عمارت کو ٹک اک دیکھ کے ڈھایا ہوتا دل پہ رکھتا ہوں کبھو سر سے کبھو ماروں ہوں ہاتھ پائوں کو نہ میں تیرے لگایا ہوتا کم کم اٹھتا وہ نقاب آہ کہ طاقت رہتی کاش یک بار ہمیں منھ نہ دکھایا ہوتا میر اظہار محبت میں گیا جی نہ ترا ہائے نادان بہت تونے چھپایا ہوتا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR