میر تقی میر میر تقی میر

آیا ہے ابر جب کا قبلے سے تیرا تیرا

آیا ہے ابر جب کا قبلے سے تیرا تیرا مستی کے ذوق میں ہیں آنکھیں بہت ہی خیرا خجلت سے ان لبوں کے پانی ہوبہ چلے ہیں قند و نبات کا بھی نکلا ہے خوب شیرا مجنوں نے حوصلے سے دیوانگی نہیں کی جاگہ سے اپنی جانا اپنا نہیں وتیرا اس راہزن سے مل کر دل کیونکے کھو نہ بیٹھیں انداز و ناز اچکّے غمزہ اٹھائی گیرا کیا کم ہے ہولناکی صحراے عاشقی کی شیروں کو اس جگہ پر ہوتا ہے قشعریرا آئینے کو بھی دیکھو پر ٹک ادھر بھی دیکھو حیران چشم عاشق دمکے ہے جیسے ہیرا نیت پہ سب بنا ہے یاں مسجد اک بڑی تھی پیر مغاں موا سو اس کا بنا حظیرا ہمراہ خوں تلک ہو ٹک پائوں کے چھوئے سے ایسا گناہ مجھ سے وہ کیا ہوا کبیرا غیرت سے میر صاحب سب جذب ہو گئے تھے نکلا نہ بوند لوہو سینہ جو ان کا چیرا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR