میر تقی میر
ناگہ جو وہ صنم ستم ایجاد آگیا
ناگہ جو وہ صنم ستم ایجاد آگیا
دیکھے سے طور اس کے خدا یاد آگیا
پھوڑا تھا سر تو ہم نے بھی پر اس کو کیا کریں
جو چشم روزگار میں فرہاد آگیا
اپنا بھی قصد تھا سردیوار باغ کا
توڑا ہی تھا قفس کو پہ صیاد آگیا
جور و ستم اٹھانے ہی اس سے بنیں گے شیخ
مسجد میں گر وہ عاشق بیداد آگیا
دیکھیں گے آدمی کی روش میر ہم تری
گر سامنے سے ٹک وہ پری زاد آگیا