میر تقی میر میر تقی میر

کل دل آزردہ گلستاں سے گذر ہم نے کیا

کل دل آزردہ گلستاں سے گذر ہم نے کیا گل لگے کہنے کہو منھ نہ ادھر ہم نے کیا کر گئی خواب سے بیدار تمھیں صبح کی بائو بے دماغ اتنے جو ہو ہم پہ مگر ہم نے کیا سیدھے تلوار کے منھ پر تری ہم آئے چلے کیا کریں اس دل خستہ کو سپر ہم نے کیا نیمچہ ہاتھ میں مستی سے لہو سی آنکھیں سج تری دیکھ کے اے شوخ حذر ہم نے کیا پائوں کے نیچے کی مٹی بھی نہ ہو گی ہم سی کیا کہیں عمر کو اس طرح بسر ہم نے کیا کھا گیا ناخن سر تیز جگر دل دونوں رات کی سینہ خراشی میں ہنر ہم نے کیا کام ان ہونٹوں سے وہ لے جو کوئی ہم سا ہو دیکھتے دیکھتے ہی آنکھوں میں گھر ہم نے کیا جیسے حسرت لیے جاتا ہے جہاں سے کوئی آہ یوں کوچۂ دلبر سے سفر ہم نے کیا بارے کل ٹھہر گئے ظالم خونخوار سے ہم منصفی کیجے تو کچھ کم نہ جگر ہم نے کیا اس رخ و زلف کی تسبیح ہے یاں اکثر میر ورد اپنا یہی اب شام و سحر ہم نے کیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR