میر تقی میر میر تقی میر

کب لطف زبانی کچھ اس غنچہ دہن کا تھا

کب لطف زبانی کچھ اس غنچہ دہن کا تھا برسوں ملے پر ہم سے صرفہ ہی سخن کا تھا اسباب مہیا تھے سب مرنے ہی کے لیکن اب تک نہ موئے ہم جو اندیشہ کفن کا تھا بلبل کو موا پایا کل پھولوں کی دوکاں پر اس مرغ کے بھی جی میں کیا شوق چمن کا تھا بے ڈول قدم تیرا پڑتا تھا لڑکپن میں رونا ہمیں اول ہی اس تیرے چلن کا تھا مرغان قفس سارے تسبیح میں تھے گل کی ہر چند کہ ہر اک کا ڈھلکا ہوا منکا تھا سب سطح ہے پانی کا آئینے کا سا تختہ دریا میں کہیں شاید عکس اس کے بدن کا تھا خوگر نہیں ہم یوں ہی کچھ ریختہ کہنے سے معشوق جو اپنا تھا باشندہ دکن کا تھا بھوئوں تئیں تم جس دن سج نکلے تھے اک پیچہ اس دن ہی تمھیں دیکھے ماتھا مرا ٹھنکا تھا رہ میر غریبانہ جاتا تھا چلا روتا ہر گام گلہ لب پر یاران وطن کا تھا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR