میر تقی میر میر تقی میر

میں غش کیا جو خط لے ادھر نامہ بر چلا

میں غش کیا جو خط لے ادھر نامہ بر چلا یعنی کہ فرط شوق سے جی بھی ادھر چلا سدھ لے گئی تری بھی کوئی زلف مشک بو گیسوے پیچدار جو منھ پربکھر چلا لڑکا ہی تھا نہ قاتل ناکردہ خوں ہنوز کپڑے گلے کے سارے مرے خوں میں بھر چلا اے مایۂ حیات گیا جس کنے سے تو آفت رسیدہ پھر وہ کوئی دم میں مر چلا تیاری آج رات کہیں رہنے کی سی ہے کس خانماں خراب کے اے مہ تو گھر چلا دیکھوگے کوئی گوشہ نشیں ہو چکا غریب تیرمژہ اس ابرو کماں کا اگر چلا بے مے رہا بہار میں ساری ہزار حیف لطف ہوا سے شیخ بہت بے خبر چلا ہم سے تکلف اس کا چلا جائے ہے وہی کل راہ میں ملا تھا سو منھ ڈھانپ کر چلا یہ چھیڑ دیکھ ہنس کے رخ زرد پر مرے کہتا ہے میر رنگ تو اب کچھ نکھر چلا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR