میر تقی میر میر تقی میر

گیا میں جان سے وہ بھی جو ٹک آتا تو کیا ہوتا

گیا میں جان سے وہ بھی جو ٹک آتا تو کیا ہوتا قدم دو ساتھ میری نعش کے جاتا تو کیا ہوتا پھرا تھا دور اس سے مدتوں میں کوہ و صحرا میں بلاکر پاس اپنے مجھ کو بٹھلاتا تو کیا ہوتا ہوئے آخر کو سارے کام ضائع ناشکیبی سے کوئی دن اور تاب ہجر دل لاتا تو کیا ہوتا دم بسمل ہمارے زیر لب کچھ کچھ کہا سب نے جو وہ بے رحم بھی کچھ منھ سے فرماتا تو کیا ہوتا کہے سے غیر کے وہ توڑ بیٹھا ووہیں یاروں سے کیے جاتا اگر ٹک چاہ کا ناتا تو کیا ہوتا کبھو سرگرم بازی ہمدموں سے یاں بھی آجاتا ہمیں یک چند اگر وہ اور بہلاتا تو کیا ہوتا گئے لے میر کو کل قتل کرنے اس کے در پر سے جو وہ بھی گھر سے باہر اپنے ٹک آتا تو کیا ہوتا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR