میر تقی میر میر تقی میر

دل فرط اضطراب سے سیماب سا ہوا

دل فرط اضطراب سے سیماب سا ہوا چہرہ تمام زرد زر ناب سا ہوا شاید جگر گداختہ یک لخت ہو گیا کچھ آب دیدہ رات سے خوناب سا ہوا وے دن گئے کہ اشک سے چھڑکائو سا کیا اب رونے لگ گئے ہیں تو تالاب سا ہوا اک دن کیا تھا یار نے قد ناز سے بلند خجلت سے سرو جوے چمن آب سا ہوا کیا اور کوئی روئے کہ اب جوش اشک سے حلقہ ہماری چشم کا گرداب سا ہوا قصہ تو مختصر تھا ولے طول کو کھنچا ایجاز دل کے شوق سے اطناب سا ہوا عمامہ ہے موذن مسجد کہ بارخر قد تو ترا خمیدہ ہو محراب سا ہوا بات اب تو سن کہ جاے سخن حسن میں ہوئی خط پشت لب کا سبزئہ سیراب سا ہوا چل باغ میں بھی سوتے سے اٹھ کر کبھو کہ گل تک تک کے راہ دیدئہ بے خواب سا ہوا سمجھے تھے ہم تو میر کو عاشق اسی گھڑی جب سن کے تیرا نام وہ بیتاب سا ہوا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR