میر تقی میر میر تقی میر

مذکور میری سوختگی کا جو چل پڑا

مذکور میری سوختگی کا جو چل پڑا مجلس میں سن سپند یکایک اچھل پڑا پہنچے ہے کوئی اس تن نازک کے لطف کو گل گو چمن میں جامے سے اپنے نکل پڑا میں جو کہا اک آگ سی سلگے ہے دل کے بیچ کہنے لگا کہ یوں ہی کوئی دن تو جل پڑا بل کیوں نہ کھائیے کہ لگا رہنے اب تو واں بالوں میں اور پیچ میں پگڑی کے بل پڑا تھے اختلال اگرچہ مزاجوں میں کب سے لیک ہلنے میں اس پلک کے نہایت خلل پڑا رہتا نہیں ہے آنکھ سے آنسو ترے لیے دیکھی جو اچھی شے تو یہ لڑکا مچل پڑا سر اس کے پائوں سے نہیں اٹھتے ستم ہے میر گر خوش غلاف نیمچہ اس کا اگل پڑا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR