میر تقی میر میر تقی میر

کرتے ہی نہیں ترک بتاں طور جفا کا

کرتے ہی نہیں ترک بتاں طور جفا کا شاید ہمیں دکھلاویں گے دیدار خدا کا ہے ابر کی چادر شفقی جوش سے گل کے میخانے کے ہاں دیکھیے یہ رنگ ہوا کا بہتیری گرو جنس کلالوں کے پڑی ہے کیا ذکر ہے واعظ کے مصلیٰ و ردا کا مرجائے گا باتوں میں کوئی غمزدہ یوں ہی ہر لحظہ نہ ہو ممتحن ارباب وفا کا تدبیر تھی تسکیں کے لیے لوگوں کی ورنہ معلوم تھا مدت سے ہمیں نفع دوا کا ہاتھ آئینہ رویوں سے اٹھا بیٹھیں نہ کیونکر بالعکس اثر پاتے تھے ہم اپنی دعا کا آنکھ اس کی نہیں آئینے کے سامنے ہوتی حیرت زدہ ہوں یار کی میں شرم و حیا کا برسوں سے تو یوں ہے کہ گھٹا جب امنڈ آئی تب دیدئہ تر سے بھی ہوا ایک جھڑاکا آنکھ اس سے نہیں اٹھنے کی صاحب نظروں کی جس خاک پہ ہو گا اثر اس کی کف پا کا تلوار کے سائے ہی میں کاٹے ہے تو اے میر کس دل زدہ کو ہوئے ہے یہ ذوق فنا کا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR