میر تقی میر
دل کی بیماری سے طاقت طاق ہے
دل کی بیماری سے طاقت طاق ہے
زندگانی اب تو کرنا شاق ہے
دم شماری سی ہے رنج قلب سے
اب حساب زندگی بیباق ہے
اپنی عزلت رکھتی ہے عالم ہی اور
یہ سیہ رو شہرئہ آفاق ہے
فرط خجلت سے گرا جاتا ہے سرو
قد دلکش اس کا بالا چاق ہے
دل زدہ کو اس کے دیکھا نزع میں
تھا نمودار آنکھ سے مشتاق ہے
رنگ میں اس کے جھمک ہے برق کی
سطح کیا رخسار کا براق ہے
گو خط اس کے پشت لب کا زہر ہو
بوسۂ کنج دہن تریاق ہے
خشک کر دیتی ہے گرمی عشق کی
بیدصحرائی سا مجنوں قاق ہے
مت پڑا رہ دیر کے ٹکڑوں پہ میر
اٹھ کے کعبے چل خدا رزاق ہے