میر تقی میر میر تقی میر

عزیز و کون سی صورت ہے ظاہر اس کے آنے کی

عزیز و کون سی صورت ہے ظاہر اس کے آنے کی قسم کھائی ہو جس نے خواب میں بھی منھ دکھانے کی تگ ان پلکوں کو ہے ٹھوکر سے فتنے کے جگانے کی طرح آتی ہے اس قد کو قیامت سر پہ لانے کی کسو سے آنکھ کے ملتے ہی اپنی جان دے بیٹھے نئی یہ رسم ہم جاتے ہیں چھوڑے دل لگانے کی جہاں ہم آئے چہرے پر بکھیرے بال جا سوئے ادا کرتے ہو تم کیا خوب ہم سے منھ چھپانے کی مسیں بھیگی ہیں اس کے سبزئہ خط کی بدایت سے مسیحؑ و خضرؑ کو پہنچی بشارت زہر کھانے کی جہاں اس کے لیے غربال کر نومید ہو بیٹھے یہی اجرت ملی ہے کیا ہماری خاک چھانے کی کہوں کیا ایک بوسہ لب کا دے کر خوب رگڑایا رکھی برسوں تلک منت کبھو کی بات مانے کی بگولا کوئی اٹھتا ہے کہ آندھی کوئی آتی ہے نشان یادگاری ہے ہماری خاک اڑانے کی کرے ہے داغ اس کا عید کو سب سے گلے ملنا اکت لی ہے نئی یہ میری چھاتی کے جلانے کی لڑا کر آنکھیں اس اوباش سے اک پل میں مر گذرا حکایت بوالعجب ہے میر جی کے مارے جانے کی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR