میر تقی میر میر تقی میر

کہو کچھ میر کی وحشت سے ان گلیوں میں آنے کی

کہو کچھ میر کی وحشت سے ان گلیوں میں آنے کی خبر کیوں پوچھتے ہیں مجھ سے لڑکے اس دوانے کی جہاں سے دل کو دیکھو منھ نظر جوں کان طلق آوے نہ کی کچھ قدر اس نے حیف اس آئینہ خانے کی ہمیں لیتے ہو آنکھیں موند کر لو تم کہ جنس اپنی وفا و مہر ہے سو وہ نہیں بابت دکھانے کی کہو ہو زیرلب کیا دیکھ کر ہم ناتوانوں کو ہماری جان میں طاقت نہیں باتیں اٹھانے کی برنگ طائر نوپر ہوئے آوارہ ہم اٹھ کر کہ پھر پائی نہ ہم نے راہ اپنے آشیانے کی عجب چوپڑ بچھی ہے ہر زماں اڑتا ہے رنگ اپنا سمجھ میں چال کچھ آتی نہیں اپنے زمانے کی اگر طالع کرے یاری تو مریے کربلا جا کر عبیر اپنے کفن کی خاک ہو اس آستانے کی غزل اک اور بھی اس گل زمیں میں قصد ہے کہیے ہوئی ہے اب تو خو آخر ہمیں باتیں بنانے کی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR