میر تقی میر
دل عجب نسخۂ تصوف ہے
دل عجب نسخۂ تصوف ہے
ہم نہ سمجھے بڑا تاسف ہے
آپ ہی صرف عشق ہوجانا
یہ بھی درویش کا تصرف ہے
منھ ادھر کر کے وہ نہیں سوتا
خواب میں آوے تو تلطف ہے
یاں تو تکلیف سی کھنچی تکلیف
واں وہی اب تلک تکلف ہے
چھیڑ اس شوخ نے رکھی ہم سے
عہد پر عہد ہے تخلف ہے
مرگ کیا منزل مراد ہے میر
یہ بھی اک راہ کا توقف ہے