میر تقی میر میر تقی میر

یار کا جور و ستم کام ہی کر جاتا ہے

یار کا جور و ستم کام ہی کر جاتا ہے کتنا جی عاشق بیتاب کا مرجاتا ہے جیسے گرداب ہے گردش مری ہر چار طرف شوق کیا جانے لیے مجھ کو کدھر جاتا ہے جوشش اشک میں ٹک ٹھہرے رہو پیش نظر اب کوئی پل میں یہ سیلاب اتر جاتا ہے زرد رخسار پہ کیوں اشک نہ آوے گل رنگ آگے سے آنکھوں کے وہ باغ نظر جاتا ہے زہ گریباں کی ہے خونناب سے تر ہوتی نہیں سارا زنجیرئہ دامن بھی تو بھر جاتا ہے واعظ شہر تنک آب ہے مانند حباب ٹک ہوا لگتی ہے اس کو تو اپھر جاتا ہے کیا لکھوں بخت کی برگشتگی نالوں سے مرے نامہ بر مجھ سے کبوتر بھی چپر جاتا ہے آن اس دلبر شیریں کی چھری شہد کی ہے عاشق اک آن ہی میں جی سے گذر جاتا ہے ہر سحر پیچھے اس اوباش کے خورشید اے میر ڈھال تلوار لیے جیسے نفر جاتا ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR